نواحی چک نمبر 290 گ ب رجانہ میں گندگی کا راج، بیماریوں کی یلغار۔۔۔ستھرا پنجاب کی عدم توجہی ۔۔۔۔علاقہ مکین پریشان

تحریر: محمد زاہد مجید انور

یہ تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک چیخ ہے، ایک پکار ہے اُن بے بس اور مجبور لوگوں کی جو چک نمبر 290 گ ب رجانہ میں گندگی، بیماری اور حکومتی بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ دین سکول کے قریب واقع یہ گاؤں آج کل ایک بہت بڑے انسانی بحران سے گزر رہا ہے، اور اس بحران کی جڑ ہے گندے پانی کا وہ جوہڑ جو عرصہ دراز سے وہاں موجود ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ درجنوں بار ستھرا پنجاب پروگرام کے افسران کو شکایات کر چکے ہیں، مگر ان تمام شکایات کا حال یہ ہوا کہ فائلوں میں دب کر رہ گئیں، اور زمین پر کوئی کام نہ ہو سکا۔ نہ صفائی کا انتظام بہتر ہوا، نہ مچھر مار اسپرے کیا گیا، اور نہ ہی اس جوہڑ کی نکاسی کا کوئی مستقل حل نکالا گیا۔ایک بزرگ مکین کی آنکھوں میں آنسو تھے جب انہوں نے کہاکہ”ہمارے گاؤں کے معصوم بچے بیمار ہو رہے ہیں، ہمیں رات کو نیند نہیں آتی۔ ایسے موٹے مچھر ہیں جیسے ڈینگی کا قافلہ لے کر آئے ہوں۔یہ الفاظ محض شکایت نہیں، ایک معاشرتی المیہ کی جھلک ہیں۔موجودہ صورتحال کے باعث گاؤں میں ملیریا، ڈینگی جیسے خطرناک امراض کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اسکول جانے والے بچے کمزور ہو چکے ہیں، خواتین پریشان ہیں، اور بوڑھے بے بس۔ گھروں میں دوا کا راج ہے، لیکن علاج کی گنجائش کمزور معاشی حالات کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا صاف پانی، صفائی، اور بیماری سے پاک ماحول صرف شہری علاقوں کے باسیوں کا حق ہے؟ کیا دیہی عوام صرف ووٹ ڈالنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ جب کوئی پریس کانفرنس ہو یا نمائندہ آئے تو وعدے ضرور ہوتے ہیں، لیکن عمل ندارد۔یہ کالم ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، ستھرا پنجاب پروگرام اور حکومت پنجاب کو آئینہ دکھانے کے لیے لکھا جا رہا ہے۔ ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں:1. دین سکول کے قریب واقع جوہڑ کی فوری صفائی کی جائے۔2. نکاسی آب کا پائیدار بندوبست کیا جائے۔3. فوری طور پر مچھر مار اسپرے کروایا جائے۔4. مستقل صفائی کا عملہ مقرر کیا جائے جو گاؤں کی نگرانی کرے۔یاد رکھیے، کسی ایک گاؤں کی بیماری کل پورے ضلع کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں، ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب معصوم بچے بیمار ہو رہے تھے، تو اربابِ اختیار کہاں تھے