صحافت میرا شوق نہیں، میرا جنون ہے
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*صحافت میرا شوق تو ہے مگر کسی جنون سے کم نہیں۔ یہ وہ جنون ہے جو میری سانسوں میں ہے، میری سوچوں میں ہے اور میرے قلم کی نوک پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔قلم اور کاغذ سے رشتہ محض الفاظ کی مشق نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد سچائی کا ہے، یہ وعدہ حق گوئی کا ہے اور یہ ذمہ داری عوام کے دکھ درد کو آواز دینے کی ہے۔ جب کوئی مظلوم فریاد کرتا ہے تو صحافی کا قلم ہی وہ زنجیر عدل ہلاتا ہے جس سے طاقتور کے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔صحافت اور قربانی صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ قربانی کا دوسرا نام ہے۔ رات کی نیندیں، دن کا سکون اور آرام سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ خبر کے پیچھے بھاگنے والا صحافی اپنے آرام کو تج دیتا ہے مگر سچائی کو نہیں چھوڑتا۔ یہی قربانی اسے دوسروں سے منفرد کرتی ہے۔صحافت اور دباؤ ہمارے معاشرے میں صحافی پر دباؤ ڈالنے والے ہاتھ کبھی طاقت کے ایوانوں سے نکلتے ہیں اور کبھی سرمایہ داروں کے دروازوں سے۔ مگر وہی صحافی حقیقی ہے جو ہر دباؤ کے باوجود حق لکھنے سے باز نہ آئے۔ قلم اگر خوفزدہ ہو جائے تو معاشرے کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔میرا عزم میری تحریر کبھی سیلاب متاثرین کی پکار بن جاتی ہے، کبھی ملاوٹ مافیا کے مکروہ چہرے بے نقاب کرتی ہے اور کبھی عوامی مسائل کو اجاگر کر کے اربابِ اختیار کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ یہی میرا مقصد ہے، یہی میرا راستہ ہے۔اختتامی بات میں جانتا ہوں کہ یہ سفر آسان نہیں۔ یہ راستہ کانٹوں بھرا ہے، مگر انہی کانٹوں پر چل کر صحافت کی خوشبو بکھرتی ہے۔ سچائی کے چراغ کو جلانے کے لیے اندھیروں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی میرا عزم ہے کہ چاہے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، میرا قلم ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا۔آخر میں میں صرف یہی کہوں گاصحافت میرا شوق تو ہے مگر کسی جنون سے کم نہیں۔ یہ وہ جنون ہے جو میری سانسوں میں ہے، میری سوچوں میں ہے اور میرے قلم کی نوک پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔*










