محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

تحریر عبدالستار سپرا

1932 عراق میں جب دو صحابۂ اکرام رضوان اللّه اجمعین کی قبور مبارک میں پانی داخل ھوا اور ان کے مزارات کو انہی کے حکم سے منتقل کیا گیا تھا ۔
عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔

ہم رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں دریا کا رخ تبدیل ہو رہا ہے پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔

عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دیئے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم ”نوری السعید پاشا‘‘ کو دکھائی دیا انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا:

”یہ خواب تو میں بھی دو بار دیکھ چکا ہوں“

اب انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔

مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے مقدس اجسام کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کر دئیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عیدقربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔

اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے اڑی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔

اسی طرح حجاز‘ مصر‘ شام ‘ لبنان‘ فلسطین‘ ترکی‘ ایران‘ بلغاریہ‘ روس‘ ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں‘ مہربانی فرما کر مقررہ تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے۔

چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔

آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب قبروں کو کھولنا تھا دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔

تمام ممالک کے سفیروں‘ عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کی نعش کرین سے احتیاط کے ساتھ اٹھائ گئ۔ اب کرین سے سٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل‘ مفتی اعظم‘ وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عہد مصر نے سٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا۔

پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو نکالا گیا۔

دونوں اجسام کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ اجسام کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

ان مقدس اجسام کو مزار سیدنا سلمان فارسی رضی اللّه عنہ کے پاس منتقل کر دیا گیا ۔